ابِر رحمت
ابھی ہم پر ایک بہت ہی پر نور اور بہاروں والا مہینہ آنے والا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ جس میں اللہ تعالی کی رحمت اور جودوسخا کے دروازے مومنوں پر کھل جاتے ہیں۔
فرشتے عرش سے یہ صدا لگاتے ہیں، مچھلیاں سمندروں کی تہوں سے یہ ندا لگاتی ہیں، پرندے آسمانوں میں اڑتےہو ئے ایک دوسرے کو پیغام دیتے ہیں اور انسان اس زمین پر ایک دوسرے کو یہ مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ مبارک ہو وہ مہینہ آگیا ، وہ لمحات آگئے ، وہ گھڑیا ں آگئیں کہ جب رب کریم نے اپنا سب سے محبوب اورلاڈلا اور عظیم پیغمبر اس دنیا میں مبعوث فرمایا تھا۔
ربیع الاول وہ رحمتوں اور سعادتوں والا مہینہ ہے جس میں ہمارے نبی محترم صلی اللہ علیہ و سلم تمام کائنات کیلئے رحمت بن کر تشریف لائے۔ آپکی تشریف آوری تھی کہ دنیا سے ظلمتیں ختم ہوگئیں۔ ہر طرف نور ہی نور پھیل گیا۔ وہ ظلمت اور اندھیرا جو صدیوں سے چھایا تھا آپکی بعثت کے بعد وہ ہمیشہ کیلئے دور ہو گیا۔
ربیع الاول کا مہینہ وہ مہینہ ہےجس میں اللہ تعالی نے اس ذات مقدسہ کو اس دنیا میں بھیجا کہ جس کی وجہ ہی سے اس دنیا کو بنا یا گیا ہے۔ یہ عرش و فرش، زمین و آسمان، مشرق و مغرب، شمال و جنوب، دریا و سمندر، آبشاروپہاڑ اور درخت و نباتات آخر کس کی یاد میں تخلیق کیے گے ہیں؟ یہ چرند و پرند کا اڑنا، شمس و قمر کی رونقیں، ستاروں کی جھرمٹ اور یہ دنیا کی محفلیں کس کے لیے قائم کی گئ ہیں؟ یہ اسی ذات مقدسہ کیلئے قائم کی گئ ہیں جو اللہ کے آخری نبی ہیں، ہمارے آقاومولاہیں، نبیوں کے سردار ہیں اور وجہ تخلیق کائنات ہیں۔ صلی اللہ علیہ و سلم۔
رب کائنات خود فرماتا ہیں کہ اے حبیب اگر آپ نہ ہوتے تو میں یہ دنیا کی محفل نہ سجاتا۔
اس دنیا میں جو بھی رونقیں ہیں، یہ آفتاب و مہتاب کی شعاعیں اور ستاروں کی کہکشاں ، یہ پھولوں کا کھلنا اور انکی رنگ و بو ، یہ سب حضور ماب ہی کے دم سے ہیں۔ آپکا آنا تھا کہ دنیا سے ظلمتیں چھٹ گئیں اور نور ہی نور چھا گیا۔
آپکا آنا تھا کہ انسانیت کو انسانیت واپس مل گئ۔ غریب و نادار کو عزت و تکریم مل گئی۔ فقراء و مساکین کے جھکے ہوئے سر عرش کی بلندیوں کو چھونے لگے۔ نازک صنف عورتوں کو انکے چھنے ہوئے حقوق واپس مل گئے۔ وہ انسان جنکو ظالم سماج غلامی کی زنجیروں میں جھکڑا ہوا تھا، ہمارے نبی نے انکے گلے سے غلامی کا طوق اتار کر اس دنیا کے تحتوں پر بیٹھا دیا، مسجدوں کے مصلوں پر کھڑا کر دیا، درس و تدریس کی مسندوں پر جلوہ گر کر دیا۔ اور یہی نہیں بلکہ کعبہ اللہ کی چھت پر کھڑا کر کے انسے اذان کہلوائی تا کہ دنیا والوں کو اس بات کا بخوبی علم ہو جائے کا آج کے بعد کسی کو اسکے رنگ و نسل، امیری اورسماجی طبقہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اسکے تقوی و وری، علم و پرہیزگاری کی وجہ سے فضیلت ہو گی۔
اللہ کے سامنے ہماراظاہری حسن و جلال، ہمارا رنگ و نسل اور ہمارا مال نہیں کام دے گابلکہ اللہ تعالی ہمارے باطن کو دیکھتا ہے۔ اگر ہمارا باطن اچھا ہے تو ہمارا ظاہر بھی اچھا ہی ہو گا اور اگر باطن پاک و صاف نہیں تو ہمارے ظاہری حسن و جلال کی اللہ کے سامنے کوئی وقعت نہیں۔
اللہ تعالی کااپنے پیارے نبی آقائے دو عالم سرور کائنات صلی اللہ علیہ و سلم کو اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ ہمارے نفوس کو پاک و صاف کر کے رب کائنات کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل بنا دے۔ وہ ہمارے دلوں کو طاہر و طیب بنا کر اللہ تعالی کی تجلیوں کا مرکز بنا دے اور ہماری سوئی ہوئی تقدیروں کو جگا دے۔ ہمیں اس قابل بنا دےکہ ہم اس زمین پر بھی چلیں تو فر شتے قدموں کے نیچے اپنے پر بچھا دیں اور روز حشر میں ہو تو فرشتے اپنے پروں میں چھپا کر ہمیں اپنے رب کریم کے رو برو پیش کریں
ہم اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کریں کہ اسنے ہم کو رسول عربی صلی اللہ علیہ و سلم جیسا نبی معظم عطا فرمایا۔ ایسا نبی جس پر ہر قوم فخر کر سکتی ہے۔ ہم اللہ تعالی کا یہ احسان کبھی بھی نہ چکا سکیں گے کہ اسنے ہم گناہگاروں کو اپنا سب سے لاڈلا پیغمبر عطا فرمایا۔ اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ میں نے مومنوں پر ایک بڑا احسان کیا ہے۔ آخر وہ احسان کیا ہے؟
اللہ تعالی نے ہمیں زندگی عطا کی، رزق و طعام مہیا کیا، آسمان کی چھت اور زمین کا فرش بچھایا اور سر چھپانے کیلئے مسکن عطا کیا۔ بدن کی نعمت عطا کی۔ دو آنکھیں دیں جس سے ہم دنیا کانظارا کر سکتے ہیں۔ کان دیے جس سے ہم دل کو بہلانے والی گفتگو سن سکتے ہیں۔ ہاتھ پائوں دیے جس سے ہم اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔ ہمارا خیال رکھنے والے والدین، دلی محبت کرنے والے بہن بھائی اور دل کوپر سکون بنانے والی اولاد عطا کی۔
اللہ تعالی نے ہمیں عقل و فہم اور سمجھ بوجھ عطا کی۔ دوسری مخلوقات پر فوقیت دی ۔ ظاہری جاہ و جلال اور دنیا کی حکمرانی عطا کی۔ ہم کو زندہ رکھنے والی اور اس دنیا میں قائم و دائم رکھنے والی تمام نعمتیں عطا فرمائی لیکن کسی بھی نعمت کو جتلایا نہیں۔ مگر جب اپنا پیارا نبی اس دنیا میں مبعوث فرمایا تب اللہ تعالی نے کہا کہ اب اسنے ہم پر ایک بہت عظیم احسان کیا ہے۔ اور واقعتا بعثت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کل کائنات پر ایک احسان عظیم ہے۔
آپکی ذات وجہ تخلیق کائنات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نہ ہوتے تو یہ کائنات نہ ہوتی۔ اللہ تعالی نے بنو آدم کو تکریم دی۔ اسکو احسن تقویم میں پیدا کیا۔ اپنے دست قدرت سے اسکی تخلیق کی اور اسکو اپنی صورت میں بنایا۔ یہ عزتیں اور کرامتیں انسان اور بشر کو اس لیئے دی گئی تھیں کہ اس عظیم رسول کو نوع انسان اور بشر سے مبعوث فرمانا تھا۔ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو انسانوں میں مبعوث کرنا نہ ہوتا تو بشریت کا یہ فروغ نہ ہوتا اور نہ انسانیت کا یہ عروج ہوتا۔
اللہ تعالی نے آپکو تمام عالم کیلئے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ رحمت اللعلمین ہیں۔ صلی اللہ علیہ و سلم۔ آپکی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ آپکی رحمت فقط حجاز والوں کیلئے، یا عرب والوں کیلئے، یا صرف مسلمانوں کیلئے محدود نہیں، بلکہ کل انسانیت کیلئے ہیں۔
فقط مسلمان ہی آپکی رحمت سے مستفید نہیں ہو رہے بلکہ کفار بھی آپکی رحمت سے مستفید ہو رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اس دنیا میں آنا تھا کہ اب اللہ تعالی کفار پر سابقہ امتوں کی طرح عذاب نازل نہیں فرمائے گا۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے انکو مہلت مل رہی ہے کہ وہ اللہ اور اسکے رسول پر ایمان لا کر اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔
اسی طرح وہ کفار جو آپ پر ایمان نہ لائیں لیکن آپکے اسوہ حسنہ کو عملی طور پر اپنی زندگیوں میں لاگو کر لیں تو انکے لیے بھی ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات اس دنیا میں باعث رحمت اور کامیابی کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔ ہاں البتہ دائمی و اخروی کامرانی و کامیابی صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے امتیوں کا ہی حصہ ہے۔
اگر رب ذوالجلال نے آپکو پورے عالم کیلئے رحمت بنا کر مبعوث کیا ہے تو یہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کی رحمت فقط انسانیت تک محدود نہیں بلکہ اس عالم کی تمام مخلوق آپکی رحمت کی محتاج ہے۔ چرند و پرند، نباتات و جنات تمام حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے در پر سوالی بن کر آتے ہیں اور آپکی رحمت سے اپنی جھولیاں بھر کر واپس لوٹتےہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ابر رحمت جب برستی ہے تو اپنے بھی اور بیگانے بھی سب اس سے فیضیاب ہوتے ہیں۔
کبھی ایک اونٹ آپکے در پر حاضر ہوتا ہے اور اپنے مالک کی شکایت کرتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسکو بلا کر یہ حکم دیتے ہیں کہ اونٹ سے اتنا کام نہ لیا کرو۔ کبھی ایک چڑیا آپکی بارگاہ رحمت میں حاضر ہوتی ہے اور اپنے بچوں کی رہائی کیلئے عرض کرتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابی کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اس چڑیا کے بچوں کو آزاد کردے۔ چرند و پرند سب جانتے ہیں کہ اس دنیا میں اگر انکی کوئی فریاد سننے والا کوئی ہے تو وہ صرف حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ہی ذات مقدسہ ہے۔
جاندار تو ایک طرف وہ ٹنڈ منڈ درخت جس سے رحمت اللعلمین ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، جب آپ نے اس سے ٹیک لگا نا چھوڑ دیا وہ آپکی یہ جدائی برداشت نہ کر سکا اور سسکیاں لے کر رونے لگا۔ تب منبع رحمت و کرم نے اسکو اپنے آغوش رحمت میں لے کر یہ بشارت دی تھی کہ اس درخت کو بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ رہتی کائنات تک اس بے جان درخت کی یہ گریہ زاری اسکے عشق رسول کی گواہی بن چکی ہے۔ فراق مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم میں اسکا آنسو بہانا عاشق رسول کیلئے ایک زندہ و جاوید نمونہ و مثال بن چکی ہے۔
صحابہ کرام بھی اس درخت کی عشق رسول میں ڈوبی ہوئی سسکیوں پر جھوم اٹھے تھے۔ اور جب نبی رحمت نے اسکو اپنے سینہ نبوت کے ساتھ لگا کر جنت کی بشارت دی تو وہ اسکی قسمت پر رشک کرنے لگے تھے۔ اسیلئے امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اے خدا کے بندو ں اگر ایک خشک لکڑی منصب رسالت کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کے فراق میں روئی تو ہمیں آپکی زیارت کا اشتیاق بدرجہا زیادہ ہونا چاہیے
ہم مومنوں کیلئے اس درخت نے ایک بینظیر مثال قائم کر دی ہے کہ اے ایمان والوں اگر تمھیں بھی جنت کی چاہت ہے تو یہ عشق رسول کے بغیر ممکن نہیں۔
اللہ تعالی نے ہم سب کو جس طرح حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرنے کا حق دیاہےاسطرح انسے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہمارے مردہ دلوں میں عشق رسول کی شمعیں روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اپنے قلوب و اذہان کو عشق رسول میں ڈبو کر صحیح معنوں میں مسلمان بننے کی کوشش کریں۔ آمین۔
Filed under: Rabiul Awwal